الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ باب: غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6372
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
وضاحت:
فوائد: … بستی کے آدمی کا نہ ترکہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مستقل طور پر وارث بنتا ہے، دراصل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کا کوئی وارث موجود نہیں ہے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ بیت المال میں ترکہ جمع کروا دینے کے مترادف ہے، یعنی حکمران کویہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جیسے چاہے فیصلہ کر دے۔