الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ باب: غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6371
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ)) قَالَ: فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَدْفِعُوهُ إِلَى أَكْبَرِ خُزَاعَةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔