الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ باب: غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6370
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔
وضاحت:
فوائد: … غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔