الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ ذَوِي الْأَرْحَامِ باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ إِلَى الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ إِلَى غُلامٍ فَقَتَلَهُ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ أَصْلٌ وَكَانَ فِي حَجْرِ خَالٍ لَهُ، فَكَتَبَ فِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ))۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔