الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ ذَوِي الْأَرْحَامِ باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعَةً فَإِلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، أَفُكُّ عَنْهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، يَفُكُّ عَنْهُ وَيَرِثُ مَالَهُ)) وَفِي لَفْظٍ: ((وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَرِثُهُ وَأَعْقِلُ عَنْهُ))۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔
اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔