الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِ باب: جدّ کی وراثت کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ فَرِيضَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ، فَقَالَ: قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وراثت سے جدّ کے فرضی حصے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا: کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کن افراد کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے مسئلہ سمجھا ہی نہیں، تجھے یہ کیا کفایت کرے گا۔