الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِ باب: جدّ کی وراثت کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ شَهِدْتُ عُمَرَ قَالَ: وَقَدْ كَانَ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ وَصِحَّتِهِ فَنَاشَدَهُمُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا، قَالَ: وَمَا الْفَرِيضَةُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْرِيَ۔ عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی اور صحت کی حالت میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پوچھا کہ آیا کسی نے جدّ کی میراث کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ لایا گیا اور اس میں دادا بھی تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادے کو چھٹا یا تیسرا حصہ دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ مسئلہ کیا تھا، یعنی اس مسئلے کے افراد کون تھے؟ انھوں نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے یہ جاننے سے کس چیز نے منع کر دیا تھا؟
(۲) ہر قریبی جد دور والے جد کو ساقط کر دیتا ہے۔
(۳) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی نرینہ اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(۴) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی صرف مؤنث اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی بنے گا۔
(۵) جب نہ باپ موجود ہو اور نہ میت کی وارث بننے والی اولاد تو جد صرف عصبہ بنے گا۔
آپ غور کریں کہ پانچ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں جد صرف چھٹے حصے کا مستحق ٹھہرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وارث کے حصے کا بھی علم ہو اور اس چیز کا بھی علم ہو کہ دوسرے کن وارثوں کی موجودگی میںیہ حصہ ملے گا۔