حدیث نمبر: 6363
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے جدّ کی میراث کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہو؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: جی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس کو ایک تہائی حصہ دیا تھا، انھوں نے کہا: کن وارثوں کے ساتھ؟ اس نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر تونے سمجھا ہی نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جد صحیح کا حصہ چھٹا ہے، نہ کہ ایک تہائی، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب جد صحیح کو دو طرف سے ترکہ ملے، یعنی فرضی حصہ بھی اور بطورِ عصبہ بھی، تو اس کا مجموعی حصہ ایک تہائی بن جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6363
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الحميدي: 833، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 6336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20236»