حدیث نمبر: 6362
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ، فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: ((لَكَ السُّدُسُ)) قَالَ: ((فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ)) قَالَ: ((لَكَ سُدُسٌ آخَرُ)) فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ قَالَ: ((إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میرا پوتا فوت ہو چکا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے چھٹا حصہ ہے۔ جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: تجھے چھٹا حصہ بھی ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ چھٹا حصہ تیرے لیے زائد ہے، (یہ حصہ کے طور پر نہیں دیا گیا)۔

وضاحت:
فوائد: … عربی زبان میں دادے اور نانے دونوںکو ’’جَدّ‘‘ کہتے ہیں، علم میراث میں’’جَدّ‘‘کی دو قسمیں ہیں: (۱)جد صحیح اور (۲) جد فاسد، صرف اول الذکر یعنی جد صحیح وارث بن سکتا ہے۔
جد صحیح: … وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں عورت نہ آئے۔مثلا: دادا، پڑدادا۔
جد فاسد: … وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں کوئی عورت آ جائے۔ مثلا نانا، دادی کا باپ۔
باپ اور جد صحیح اصحاب الفروض بھی ہیں اور عصبہ بھی،یہ پہلے اپنا مقررہ حصہ لیتے ہیں، اس کے بعد ترکہ کی کچھ مقدار ان کو بطورِ عصبہ بھی مل سکتی ہے۔
مسئلے کی صورت یہ ہے کہ سائل کا پوتا فوت ہوا ہے اور اس نے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی (۳/۲) حصہ ہے اور (سائل) دادے کے لیے چھٹا (۶/۱) حصہ ہے۔ عصبہ چونکہ اور کوئی نہیں، اس لیے دادا (سائل) باپ کی جگہ پر ہوکر عصبہ بھی بن رہا ہے اور اسے باقی (۶/۱) بھی مل جائے گا اس بعد والے چھٹے حصہ کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ زائد ہے یعنییہ مقرر و فرض حصے کے علاوہ عصبہ کے طور پر دیا گیا ہے۔
(عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6362
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يمسع من عمران بن حصين۔ أخرجه ابوداود: 2896، والترمذي: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19915 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20157»