حدیث نمبر: 636
عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وَضُوءَ لَهُ، وَلَا وَضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

رباح بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے وضو پر «بِسْمِ اللّٰہِ» نہیں پڑھی، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔“

وضاحت:
فوائد: … نیز سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((تَوَضَّئُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) … بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو۔ (نسائی: ۷۸)ان احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، نیز صرف بِسْمِ اللّٰہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں، نہ کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمَ کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 636
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف ابي ثفال المري۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 25، وابن ماجه: 398 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23624»