الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ الْجَنَّةِ وَالْجَدَّاتِ باب: دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَتْهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لَهَا السُّدُسَ فَقَالَ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ مَنْ يَعْلَمُ مَعَكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا۔ سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔
جدہ صحیحہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی
جدہ فاسدہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔