الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ البَدْهِ بِذَوِي الْقُرُوضِ وَإِعْطَاءِ الْعَصَبَةِ مَا بَقِى باب: اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6355
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ زَوْجٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَأَعْطَى الزَّوْجَ النِّصْفَ وَالْأُخْتَ النِّصْفَ فَكُلِّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے میت کے خاونداور حقیقی بہن کے بارے میں سوال کیا گیا، پس انھوں نے نصف خاوند کو اور نصف بہن کو دیا اور جب ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا: ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی فیصلہ کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ جب کسی مسئلہ میں خاوند اور عینی بہن جمع ہو جائیں تو خاوند کو بھی نصف ملے گا اور بہن کو بھی نصف۔