حدیث نمبر: 6354
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ فَقَالَ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شہید ہو چکا ہے، اب ان کے چچا نے تمام مال سمیٹ لیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو کوئی آدمی ان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو ئی فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلایا اورفرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دے، پھر جو کچھ بچ جائے وہ تیرا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جب میت کی دو یا زائد بیٹیاں ہوں تو ان کو دو تہائی ملتا ہے، جب خاوند کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے، چچا عصبہ ہے، اس لیے دو قسم کے اصحاب الفروض سے جو کچھ بچے گا، وہ چچا کو ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2891، 2892، وابن ماجه: 2720 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14858»