الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بابُ فِي أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ علیہم السلام لِيْ لَا يُورَثُونَ باب: اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
حدیث نمبر: 6351
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِهِ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم کے آسرے پر آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ انبیائے کرام hکا ترکہ ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا، وہ سارے کا سارا از خود صدقہ ہو جاتا ہے، البتہ اس ترکہ میں سے ان افراد کی کفالت کی جائے گی، جن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفیل تھے۔