الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ أَنَّ دِيَةَ الْمَقْتُولِ لِجَمِيعِ وَرَتَيْهِ، وَمَا جَاءَ فِي ميرَاتِ الْحَمْلِ بَعْدَ وَضْعِهِ إِنِ اسْتَهَلَّ باب: مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
حدیث نمبر: 6344
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ عُمَرَ قَالَ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: دیت مرد کے عصبہ میں تقسیم ہوگی اور بیوی اپنے خاوند کی دیت میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہوگی، لیکن جب سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تحریری فرمان بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت کا وارث بناؤں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔