الفتح الربانی
أبواب الفرائض— فرائض کے ابواب
بَابُ أَنَّ دِيَةَ الْمَقْتُولِ لِجَمِيعِ وَرَتَيْهِ، وَمَا جَاءَ فِي ميرَاتِ الْحَمْلِ بَعْدَ وَضْعِهِ إِنِ اسْتَهَلَّ باب: مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہ یہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔