حدیث نمبر: 6343
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہ یہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔

وضاحت:
فوائد: … خاوند بحیثیت ِ خاوند اپنی بیوی کا عصبہ نہیں ہوتا، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چاہاکہ مقتولہ کی دیت میں سے خاوند کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ قاتل کی دیت ادا کرنے والے عصبہ ہوتے ہیں، لیکن جب ان کو حدیث ِ مبارکہ کا علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ بیوی کی دیت میںسے اس کے خاوند کو اس کا حصہ دیا تھا، تو انھوں نے اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6343
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15837»