حدیث نمبر: 6342
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ قَالَ ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ دُونَ أَبِيهِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ وَفِي لَفْظٍ مِيرَاثٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس ایسی اونٹنیاں لیں جو دو دانتے سے نویں سال میں داخل ہونے تک تھیں اور وہ ساری کی ساری حاملہ تھیں، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایایہ سارے اونٹ اسے دے دیئے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میراث میں سے قاتل کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … ’’بازِل‘‘ ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جو اپنی عمر کے نویں سال میں داخل ہو چکا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6342
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، وانظر الحديث السابق۔ أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 348»