حدیث نمبر: 6337
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ثُمَّ قَالَ لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ وَلَا الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ وَفِي لَفْظٍ الْمُسْلِمُ بَدَلَ الْمُؤْمِنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کل مکہ میں کہاں اتریں گے؟ یہ فتح مکہ کے زمانے کی بات تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر مؤمن کا اورمؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔

وضاحت:
فوائد: … جب ابو طالب فوت ہوا تو اس کے دو بیٹے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ترکہ سے محروم رہے، ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور اس کے دو بیٹے عقیل اور طالب اس کے ساتھ کفر پر قائم تھے، سو سارا ترکہ ان دونوں میں تقسیم کر دیا گیا، پھر جب غزوۂ بدر میں طالب مارا گیا تو عقیل ساری جائداد کا وارث بن گیا اور پھر اس کو بیچ دیا، بعد میں سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی کافر مسلمان کا اور کوئی مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا، کل موانع ارث تین ہیں: کفر، غلامی، قتل۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الفرائض / حدیث: 6337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4282، 4283، ومسلم: 1351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22095»