حدیث نمبر: 6336
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر نے کہا: مجاہد، عطائ، شعبی، ابن ابی لیلی، قتادہ اور کئی سلف و خلف نے ان دو آیتوں کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۳۷۵)
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6336
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد اختلط۔ أخرجه ابوداود: 2871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»