الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ حُكْمِ الْوَصِي فِي اليتيم باب: یتیم کے بارے میں وصیت کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6335
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَيْرِ أَنْ تَقِيَ مَالَكَ أَوْ قَالَ تَفْدِيَ مَالَكَ بِمَالِهِ شَكَّ حُسَيْنٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرپرست اپنے یتیم کے مال کے اضافے اور اصلاح کے لیے جو محنت کر رہا ہو، وہ اس مال سے اس کا عوض لے سکتا ہے، لیکنیہ اجرت معروف طریقے کے مطابق ہونی چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ایسا سرپرست معاشرے یا خاندان کے عدل و انصاف اور فہم و فراست والے دو افراد سے اپنی اجرت کا تعین کروا لے، تاکہ اس کا نفس مختلف حیل و حجت کرنے سے محفوظ ہو جائے، باقی ہدایات حدیث میں ہی بیان کر دی گئی ہیں۔