الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ حُكْمِ الْوَصِي فِي اليتيم باب: یتیم کے بارے میں وصیت کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6334
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
وضاحت:
فوائد: … یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔