الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ لا وَصِيَّة لِوارِث باب: وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6332
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَأَنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔