الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَاب جَوَازِ تَبَرُّعَاتِ الْمَرِيضِ مِنَ التَّلْثِ فَأَقَلَّ وَمَنْعِهِ مِنَ الرِّيَادَةِ عَلَيْهِ باب: بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6329
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَقَبَةٍ لَهُ فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا صَنَعَ قَالَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
وضاحت:
فوائد: … مرنے والے کی جو وصیت اور شرط شرعی احکام کے مخالف ہو گی، اس کو مردود اور بے اثر سمجھا جائے گا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میت کے فیصلے کو ردّ کردیا اور ایک تہائی کی گنجائش کے مطابق دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور چار کو ورثاء میں تقسیم کر دیا۔