حدیث نمبر: 6328
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِيقِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … قرعہ کا ذکر اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6328
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20106»