الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَاب جَوَازِ تَبَرُّعَاتِ الْمَرِيضِ مِنَ التَّلْثِ فَأَقَلَّ وَمَنْعِهِ مِنَ الرِّيَادَةِ عَلَيْهِ باب: بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ أَتَانِي يَعُودُنِي قَالَ فَقَالَ لِي أَوْصَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالَ لَا تَفْعَلْ قُلْتُ إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔