حدیث نمبر: 6325
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ أَتَانِي يَعُودُنِي قَالَ فَقَالَ لِي أَوْصَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالَ لَا تَفْعَلْ قُلْتُ إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6325
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1501»