الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْحَيْفِ فِيهَا وَفَضِيلَةِ التَّنْجِيرِ حَالَ الْحَيَاةِ باب: وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا¤اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6323
عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى وَلَدَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ فَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا سَوَّدُوا أَكْبَرَهُمْ خَلَفُوا أَبَاهُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ موت کے بعد سے متعلقہ امور کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں، خاندان کے بڑے لوگ یقینا بارعب ہوتے ہیں، ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن بڑے لوگوں کو کبھی بھی درج ذیل حدیث سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔