حدیث نمبر: 6322
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقُلْتُ إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ أَضَعُهُ أَفِي الْفُقَرَاءِ أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ أَوْ فِي الْمَسَاكِينِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَفِي لَفْظٍ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروں کو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … موت کے قریبیعنی موت کی علامتیں ظاہر ہونے سے قبل بھی صدقہ کرنا درست ہے، البتہ پسندیدہ قانون وہی ہے جو حدیث نمبر (۶۳۲۰)میں گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6322
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي حبيبة الطائي۔ أخرجه ابوداود: 3968، والترمذي: 2123، والنسائي: 6/238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22062»