الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْحَيْفِ فِيهَا وَفَضِيلَةِ التَّنْجِيرِ حَالَ الْحَيَاةِ باب: وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا¤اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ ٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۳، ۱۴)