حدیث نمبر: 6320
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہل صدقہ کر لینا چاہیے، اسی طرح خیر و بھلائی والی وصیت اس وقت سے پہلے تیار کر لینی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الوصايا / حدیث: 6320
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1419،و مسلم: 1032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7401»