الفتح الربانی
مسائل الوصايا— وصیتوں کے مسائل
بَابُ الْحَقِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْحَيْفِ فِيهَا وَفَضِيلَةِ التَّنْجِيرِ حَالَ الْحَيَاةِ باب: وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا¤اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6319
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثًا إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَمَا بِتُّ لَيْلَةً مُنْذُ سَمِعْتُهَا إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَكْتُوبَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔