حدیث نمبر: 6315
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ قَالَ حَمَّادٌ فَقُلْتُ لَهُ لِخَيْلِهِ قَالَ لَا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع کی چراگاہ کو گھوڑوں کے لئے خاص کر دیا تھا۔ حماد کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی، انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفاہ عامہ کے لئے چراگاہ وقف کی تھی، جس سے بلا امتیاز لوگ مستفید ہو تے تھے، مسلمانوں کے خلیفہ کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے، بعض دیہاتی علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ مویشیوں کے چرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور سارے چارے کا انتظام گھر میں ہی کرنا ہوتا ہے، اس سے مالکوں کا خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے اور محنت بھی بہت کرناپڑتی ہے، ایسے علاقوں کے سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ ایک دو ایکڑ زمین خرید کر اس میں مختلف درخت لگا دیں، گھاس وغیرہ تو خود بخود اگ آتی ہے، اس سے لوگ آگ جلانے کے لیے لکڑیاں بھی کاٹ سکیں گے اور اپنے مویشی بھی چرائیں گے، یہ بہت بڑا صدقہ ہو گا، البتہ متعلقہ لوگوں کا پر خلوص ہونا ضروری ہے اور کہیں ایسا بھی نہ ہو کہ بعد میںآنے والے ان کی نسل کے لوگ احسان جتلانا شروع کر دیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الوقف / حدیث: 6315
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 4683 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6438»