حدیث نمبر: 6313
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ يَهُودِ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهَا ثَمْغٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا نَفِيسًا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ قَالَ فَجَعَلَهَا صَدَقَةً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ يَلِيهَا ذَوُو الرَّأْيِ مِنْ آلِ عُمَرَ فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِهَا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الرِّقَابِ وَالْفُقَرَاءِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالضَّيْفِ وَلَيْسَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا جُنَاحٌ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ قَالَ حَمَّادٌ فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُهْدِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْهُ قَالَ فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَةُ بِأَرْضٍ لَهَا عَلَى ذَلِكَ وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ وَوَلِيَتْهَا حَفْصَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنی حارثہ کے یہودیوں سے ثمغ نامی جو زمین حاصل کی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑا نفیس اور عمدہ مال ملا ہے، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق انھوں نے اس کو اس طرح صدقہ کیا کہ نہ اس کو بیچا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے ورثے میں آئے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آل کے سمجھ دار لوگ اس کی سرپرستی کریں گے، جو مال اس کے خرچ سے زائد ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ، مسافروں، غلاموں کو آزاد کرنے، فقراء، رشتہ داروں اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا نگران اچھے طریقے سے اس سے خود بھی کھا لے اور مہمان کو بھی کھلا لے، لیکن اس سے مال بنانے کی کوشش نہ کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، سیدنا عبد اللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کو اسی زمین سے تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح اپنی اپنی زمین صدقہ کر دی تھیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی زمین کی نگران خود سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام f کا جذبۂ انفاق تھا، عمدہ اور نفیس قسم کی زمینیں وقف کر دینا کسی سرمایہ دار کے بس کی بات نہیں ہے، ایسے عظیم عمل کے لیے اللہ تعالی پر مضبوط ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی ضرورت ہے، بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے احکام مرتب کر کے یہ زمینوقف کر دی۔ معین افراد پر صدقہ کرنے کے بجائے عام لوگوں کے لیے وقف کر دینے کے فوائد زیادہ ہیں، پھر بھی ایسا اقدام کرنے والے کو حکمران یا سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے کہ علاقے میں عام وقف کی زیادہ ضرورت ہے یا چند افراد کو خاص کر دینے کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں امور کا خیال رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الوقف / حدیث: 6313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2737، 2772، 2773، ومسلم: 1632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6078»