حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ (يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ) حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عَائِذٍ سَيْفٍ السَّعْدِيِّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَكَانَ أَمِيرًا بِعُمَّانَ وَكَانَ كَخَيْرِ الْأُمَرَاءِ، قَالَ أَبِي: اجْتَمِعُوا فَلِأُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ، قَالَ: فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ الْيَدَ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ هَذِهِ ثَلَاثًا يَعْنِي الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ يَعْنِي الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ ثَلَاثًا يَعْنِي الْيُسْرَى، قَالَ: هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَصَلَّى صَلَاةً مَا نَدْرِي مَا هِيَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ فَأُقِيمَتْ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ، فَأَحْسِبُ أَنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ آيَاتٍ مِنْ يَاسٍ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ وَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یزید بن براء رحمہ اللہ، جو عمان کے امیر تھے اور عام امراء میں سے بہترین امیر تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں دکھا سکوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میں نے تمہارے ساتھ کتنا عرصہ رہنا ہے،“ بہرحال انہوں نے اپنے بیٹوں اور اہل وعیال کو جمع کیا اور وضو کا پانی منگوایا، پس کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ تین دفعہ دھویا، اس کے بعد بایاں ہاتھ تین بار دھویا، پھر سر کا اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا، پھر اس دائیں پاؤں اور اس کے بعد بائیں پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور کہا: ”اسی طرح وضو تھا، میں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی کیفیت دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی،“ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ایک نماز پڑھی، ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ کون سی نماز تھی، پھر باہر تشریف لائے اور نماز کا حکم دیا، پس اقامت کہی گئی اور انہوں نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی، میرا خیال ہے کہ میں نے اس نماز میں سورہ یس کی کچھ آیتیں سنی تھیں، پھر عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد مغرب کی اور پھر عشا کی نماز پڑھائی اور پھر کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے اور کیسے نماز پڑھتے تھے، میں نے تم کو یہ چیزیں دکھانے میں کوئی کمی نہیں کی۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن المنذر في الاوسط : 1/ 4001، والبخاري في التاريخ الكبير : 4 / 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18736»