الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْهُمَا باب: عمریٰ اور رقبیٰ کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6306
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمُعْمَرِهِ مَحْيَاهُ وَمَمَاتَهُ لَا تُرْقِبُوا فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو کوئی چیز بطورِ عمریٰ دی تو وہ موت و حیات میں اسی کی ہو جائے گی، جس کو دی گئی، تم کوئی چیز بطور رقبیٰ نہ دو، جس نے کوئی چیز بطور رقبیٰ دے دی تو میراث کی روٹین میں آ جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس امید میں عمری اور رقبی کے طور پر چیزیں دو کہ وہ بالآخر واپس آ جائیں گی، جبکہ وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جائیں گی، جس کو دی جائیں گی، اس لیے جو آدمی رقبییا عمری کے طور پر کوئی چیز دینا چاہے تواس کو علم ہونا چاہیے کہ یہ چیز واپس نہیں آئے گی، سو وہ محتاط ہو جائے گا اور اگر کوئی آدمی عمری اور رقبی کے احکام کا علم ہونے کے بعد کوئی چیز اس طرح دینا چاہے تو وہ بیشک دے۔