الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي جَوَازِهِمَا باب: عمری اور رقبی کے جائز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6301
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً حَيَاتَهَا وَأُمُّهَا مَاتَتْ فَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ان کی زندگی بھر کے لئے باغ دے دیا تھا، اب وہ فوت ہو گئی ہیں اور اس نے میرے سوا کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا صدقہ بھی ثابت ہو گیا ہے اور تیرا باغ بھی تجھے وراثت میں واپس مل گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو چیز کسی کو بطورِ رقبییا عمری دی جاتی ہے، وہ مستقل طور پر اسی کی ہو جاتی ہے۔