الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ النَّهْي أَنْ يَرْجِعَ الرَّجُلُ فِي هِيَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ باب: والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6297
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوقِفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِيَرُدَّ عَلَيْهِ مَا وَهَبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹتا ہے، ہبہ کرنے والا جب واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کو کھڑا کر کے اس سے واپسی کی وجہ پوچھی جائے اور پھر اس کووہ چیز واپس کر دی جائے، جو اس نے ہبہ کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی مثال بیان کر کے ہبہ کرنے والے کو اس کمینے پن سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں: (۱) جب کوئی آدمی ہبہ کی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے ایسا کرنے کا سبب دریافت کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ اس کا مقصود یہ ہو کہ ہبہ وصول کرنے والا اسے بھی متبادل دے گا، تو پھر ممکن ہو گا کہ وہ اسے متبادل دے دے اور وہ اپنا ہبہ واپس نہ لے اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں اس کو اس کی ہبہ کی ہوئی چیز واپس کر دی جائے۔
(۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)
(۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)