الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ النَّهْي أَنْ يَرْجِعَ الرَّجُلُ فِي هِيَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ باب: والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6296
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ فَأَكَلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنا عطیہ لوٹا لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ عطیے میں دی ہوئی چیز واپس نہیں لی جا سکتی، کیونکہ اس کی مثال بری ہے اور حدیث نمبر (۶۲۸۹) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ۔)) … ’’ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے۔‘‘ البتہ اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث قابل توجہ ہے۔