الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ النَّهْي أَنْ يَرْجِعَ الرَّجُلُ فِي هِيَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ باب: والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6292
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْئَ إِلَّا حَرَامًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز کو لوٹانے والا اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ امام قتادہ نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ قے حرام ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو قے کی حرمت یا نجاست پر دلالت کرتی ہو، دراصل سلیم الفطرت انسان کی طبیعت کو دیکھ کر بات کہی جا رہی ہے۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ قے کی حرمت و نجاست کی کوئی دلیل نہیں، لیکن تحفہ دے کر واپس لینا حرام ہے جیسا کہ حدیث۶۲۹۰ سے واضح ہے۔