حدیث نمبر: 6288
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو غلام کا عطیہ دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤ۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میری بیوہ عمرہ بنت رواحہ کامطالبہ ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنے غلام کا عطیہ دوں، نیز وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے اور بھائی بھی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سب کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو جائز نہیں ہے اور میں صرف حق پر گواہ بنتاہوں۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین اپنی اولاد کو عطیہ تو دے سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کو دیں اور برابری اور مساوات کا بھی خیال رکھیں، اگر ایسے نہ کیا تو یہ ظلم ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14492 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14546»