الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْسِيمِ الْهَدِيَّةِ فِي الْأَهْلِ وَالْأَصْحَابِ ومن حَضَرَ باب: ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو غلام کا عطیہ دو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤ۔ پس سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میری بیوہ عمرہ بنت رواحہ کامطالبہ ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنے غلام کا عطیہ دوں، نیز وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر گواہ بناؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے اور بھائی بھی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سب کو اسی طرح کا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو جائز نہیں ہے اور میں صرف حق پر گواہ بنتاہوں۔