الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ تَقْسِيمِ الْهَدِيَّةِ فِي الْأَهْلِ وَالْأَصْحَابِ ومن حَضَرَ باب: ہدیہ کو اہل و عیال، دوستوں اور حاضرین میں تقسیم کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ قَالَتْ وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔