حدیث نمبر: 6284
عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا مَرْدُودَةً عَلَيَّ فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ فَهِيَ لَكِ قَالَتْ وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے نجاشی کی جانب ایک جوڑا اور کچھ اوقیے کستوری بطور تحفہ بھیجی تھی، چونکہ نجاشی اب فوت ہو چکا ہے، اس لیے میرا خیال ہے کہ میرایہ تحفہ واپس کر دیا جائے گا، بہرحال اگر وہ واپس آیا تو وہ تمہارے لئے ہوگا۔ وہی کچھ ہوا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدیہ واپس کر دیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بیوی کو کستوری کا ایک ایک اوقیہ دیا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو بچ جانے والی کستوری اور جوڑا دیا۔

وضاحت:
فوائد: … عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روٹینیہی تھی کہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موصول ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو وقت کی مناسبت کے مطابق رشتہ داروں، حاضرین اور دوسرے صحابہ کرام اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي بن عقبة لم نقف لھا علي ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد في تعيينھا۔ أخرجه الحاكم: 2/ 188، والبيھقي: 6/ 26، وابن حبان: 5114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27819»