حدیث نمبر: 6279
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً فَأَبَى قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عراک بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: دورِ جاہلیت میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا اور مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ حج میں شریک ہوئے تھے، لیکن ابھی تک وہ کافر تھے، انھوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا حلہ فروخت کیا جا رہا تھا، حکیم نے اس مقصد کے لیے وہ خرید لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا جائے، پس وہ یہ لے کر مدینہ منورہ آئے اور ان کا یہ ارادہ تھا کہ وہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ لینے سے انکار کر دیا۔ عبید اللہ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کا تحفہ قبول نہیں کرتے، ہاں اگر تو چاہتا ہے تو ہم اس کو قیمت کے عوض خرید لیتے ہیں۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِ ہدیہ قبول کرنے سے انکار کیا تو میں نے قیمت کے عوض دے دیا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے تحفے قبول بھی کیے ہیں، ان میںجمع وتطبیق کی دو صورتیں ہیں: (۱) مشرکوں کا تحفہ قبول کر لینا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ہے، اس لیے اس کا ناسخ سمجھیں گے، اور (۲) کوئی مصلحت ہو تو ایسا تحفہ قبول کر لیا جائے، وگرنہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ اس قسم کے تحائف کو ردّ کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3125، والحاكم: 3/ 484 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15397»