حدیث نمبر: 6276
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقَةً مِنْ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ هَذِهِ مِنَ السَّمَاءِ فَقَالَ وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَنْدِيلًا مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَبِسَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا قَالَ فَمَا أَصْنَعُ بِهَا قَالَ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ روم کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باریک ریشم کی بنی ہوئی دراز آستین کی پوستین تحفہ میں بھیجی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیبِ تن کیا،گویا کہ میں اب بھی اس کے بازوؤں کی طرف دیکھ رہا ہوں ، جو طویل ہونے کی وجہ سے حرکت کر رہے تھے ،لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول ! کیا یہ لباس آپ پر آسمان سے اتارا گیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم اتنے تعجب میں کیوں پڑ گئے ہو،پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سےبہتر ہیں۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کوبھیج دیا،جب انھوں نے اس کو پہنا،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیےتو نہیں دیاتھا، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس کو کیا کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اس کو اپنے بھائی نجاشی کی طرف بھیج دو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6276
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ومتنه منكر تفرد بھذه السياقة علي بن زيد بن جدعان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13433»