حدیث نمبر: 6274
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔

وضاحت:
فوائد: … حسب ِ استطاعت ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا چاہیے، اس بارے میں درج ذیل حدیث میں پورا ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 6384، والطبراني: 10897، والبزار: 1938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2687»