الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
الثَّوَابُ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَ الْهِبَةِ باب: ہدیہ اور ہبہ کا بدلہ دینا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِبَةً فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ لَا قَالَ فَزَادَهُ قَالَ رَضِيتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی چیز ہبہ کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کا بدلہ دیا اورفرمایا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو زیادہ دیا اور پھر پوچھا: تو راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو مزید کوئی چیز دی اور فرمایا: اب راضی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ہبہ قبول نہ کروں، مگر قریشی سے یا انصاری سے یا ثقفی سے۔