الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَقَالَتْ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يُؤْكَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ قَالَتْ لَبَنًا أَهْدَيْتُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَقَالَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ فَفَعَلَتْ فَقَالَ اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَسَكَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیں ہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں ، یہ بدّو نہیں ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سنبلہ رضی اللہ عنہا کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔
(۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔