حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ يَعْنِي إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ وَرُبْعٍ، قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى الْهَاشِمِيِّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْمَاءَ فِي هَذَا فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّةً: يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، قَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ فَسَأَلَنِي وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: مَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا مَسْحَتَيْنِ وَغَسْلَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، انہوں نے ایک برتن نکالا، جو ایک مد یا ایک مد اور چوتھائی مد کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مد کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انہوں نے کہا: ”میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔“

وضاحت:
فوائد: … آخری قول سے وہ وضو والی آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس میں ان کے فہم کے مطابق چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کا اور سر اور پاؤں کا مسح کرنے کا ذکر ہے، حقیقت میں پاؤں کو دھونا ہی ثابت ہے، البتہ موزے وغیرہ کی صورت میں مسح کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل بن ابي طالب، وقد انفرد به واضطرب في متنه ۔ أخرجه ابوداود: 127، 130، والترمذي: 33، وابن ماجه: 390، 418،440 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27555»