الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوَّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ لَهُ يَعْنِي إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا أَوْ نَحْوَ مُدٍّ وَرُبْعٍ، قَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى الْهَاشِمِيِّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْمَاءَ فِي هَذَا فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ مَرَّةً: يَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَالْيُسْرَى ثَلَاثًا وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ مَرَّةً أَوْ مَرْتَيْنِ: مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، قَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ فَسَأَلَنِي وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: مَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا مَسْحَتَيْنِ وَغَسْلَتَيْنِعبداللہ بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: علی بن حسین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کرنے کے لیے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، انہوں نے ایک برتن نکالا، جو ایک مد یا ایک مد اور چوتھائی مد کی مقدار کا تھا، سفیان نے کہا: یوں لگ رہا تھا کہ وہ ہاشمی مد کی بات کر رہے ہیں، بہرحال سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس برتن میں پانی ڈالتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے تھے، ایک دفعہ کہا: ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین دفعہ دھوتے تھے، پھر اپنا چہرہ دھوتے اور تین دفعہ کلی کرتے اور تین بار ناک میں پانی چڑھاتے، پھر تین دفعہ دایاں بازو دھوتے اور تین بار ہی بایاں بازو دھوتے اور پھر آگے پیچھے سے سر کا مسح کرتے، پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین تین بار دھوتے۔ پھر جب میرے چچا زاد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے ساری کیفیت بتلائی، لیکن انہوں نے کہا: ”میں تو کتاب اللہ میں صرف دو عدد مسح اور دو عدد دھونا پاتا ہوں۔“