حدیث نمبر: 6267
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَبَعَثْتُ إِلَى عَائِشَةَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَائِشَةَ قَالَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ لَا إِلَّا أَنَّ نُسَيْبَةَ بَعَثَتْ إِلَيْنَا مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثْتُمْ بِهَا إِلَيْهَا فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کی ایک بکری ان کی طرف بھیجی اور انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انھوں نے کہا: جی نہیں، البتہ نسیبہ (یعنی ام عطیہ) نے اس بکری کا ایک حصہ بھیجا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کتنی دلچسپ بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی طرف صدقہ کی ایک بکری بھیجی، پھر اسی بکری کا گوشت بھی قبول کر لیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بکری کی مالک بنیں تو اس کا حکم بدل گیا، اب وہ صدقہ نہیں رہا، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت قبول کر لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الهبة والهدية / حدیث: 6267
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1446، 1494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27844»