الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
حدیث نمبر: 6265
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ قَدْ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا اور وہ اس کی مالک بن جاتی تو اس کا حکم بدل جاتا تھا، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صدقہ و خیرات وصول کرنے والے لوگوں کی ضیافتیا تحفے کو قبول کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ جب صدقہ و زکوۃ لینے والا صدقہ لے لیتا ہے تو اس کا حکم بدل جاتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ میں صدقہ نہیں رہتا، دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۶۷)۔