الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْوَضُوءَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ بِكَفِّهَا فَصَبَّ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ فَمَسَحَ بِهِ عَلَى قَدَمِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَسیدنا عبدالرحمن بن ابو قراد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلا، جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر کے آ رہے ہیں تو میں چمڑے کا برتن یا پیالہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تو دور چلے جاتے تھے، بہرحال میں راستے میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر واپس آئے اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کا پانی لیجئے،“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اپنے ہاتھ پر پانی بہایا اور اس کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ داخل کیا، انگلیوں کو بند کر کے (چلو بھرا) اور ایک ہاتھ پر پانی بہایا اور پھر سر کا مسح کیا، پھر ایک ہاتھ پر پانی لیا اور سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو بھرا اور اپنے پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اس کے ساتھ اپنے پاؤں پر ہاتھ پھیرا، پھر تشریف لائے اور ہمیں نماز ظہر پڑھائی۔