الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
قبول رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ الْهَدِيَّةَ وَإِنْ كَانَتْ حَقِيرَة لا الصَّدَقَةَ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةٌ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو
حدیث نمبر: 6258
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ لَوْ أُهْدِيتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان پر مہربانی کرنے کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ ہدیہ دینے والے کے ہدیے اور میزبان کی دعوت کی مقدار اور معیار کو سامنے نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے آدمی کا خلوص قبول کر کے اس کے سامنے خوشی کا اظہار کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ بھی دیا جائے۔ اس دور میں مال و زر اور ناز ونخرے والے لوگوں کے لیے اس قسم کی احادیث پر عمل کرنا خاصا دشوار کام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دعوت کرنے والے اور ان کو تحفے تحائف دینے والے لوگ ان کے معیار کے ہوں، اگر ان کی دعوت کی جائے تو پرتکلف انداز ہونا چاہیے اور اگر ان کو تحفہ دیا جائے تو وہ بہت قیمتی چیز ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبیوں کے سردار کے طرزِ حیات سے غفلت نہ برتیں اور جو چیز ان کی طبع کے مطابق نہ ہو، شریعت کی روشنی میں اس کو اچھے انداز میں قبول کریں۔