الفتح الربانی
مسائل الهبة والهدية— ہبہ اور ہدیہ کے مسائل
بَابُ الْحَيَّ عَلَى الْهَدِيَّةِ وَاسْتِحْبَاب قبولها وفَضْل الْمُهْدِى باب: ہدیہ دینے پر آمادہ کرنے، اس کو قبول کرنے کے مستحب ہونے اور ہدیہ دینے والے¤کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6257
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دودھ کا عطیہ دیا، چاندی کا عطیہ دیا،یا (نابینے اور راہ بھولے وغیرہ کو) راستہ کی رہنمانی کر دی تو وہ ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … عطیہ مستقل طور پر بھی دیا جاتا ہے اور فائدہ اٹھانے کے لیے عارضی طور پر بھی، قرض بھی عارضی عطیہ کی ایک صورت ہے۔